پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر: آخر گھر بنانا اتنا مشکل کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ | Marinsh
پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر: آخر گھر بنانا اتنا مشکل کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
·شائع ہوا 5 Jul 2026
پاکستان میں رئیل اسٹیٹ ہمیشہ سے سرمایہ کاری کا پسندیدہ ذریعہ رہا ہے۔ "زمین کبھی نقصان نہیں دیتی" شاید وہ جملہ ہے جو ہم سب نے کسی نہ کسی وقت ضرور سنا ہوگا۔
لیکن اگر آج کے پاکستان کو اعداد و شمار کی نظر سے دیکھا جائے تو ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔
ایک طرف ملک میں لاکھوں لوگ اپنا پہلا گھر خریدنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہزاروں پلاٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں برسوں سے خالی پڑی ہیں۔
آخر ایسا کیوں ہے؟
پاکستان کو ہر سال تقریباً 10 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت ہے
پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ شہروں کی طرف ہجرت بھی مسلسل جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ (10 ملین) سے زیادہ گھروں کی کمی موجود ہے، جبکہ ہر سال تقریباً 10 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آج سے بھی تعمیرات کی رفتار بڑھا دی جائے، تب بھی موجودہ کمی کو پورا کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
لیکن پھر بھی ہزاروں پلاٹس خالی کیوں ہیں؟
یہ شاید پاکستان کی رئیل اسٹیٹ کا سب سے بڑا سوال ہے۔
مسئلہ گھروں کی کمی نہیں...
مسئلہ قابلِ خرید گھروں (Affordable Housing) کی کمی ہے۔
بڑی تعداد میں سرمایہ ایسے پلاٹس میں لگا ہوا ہے جو صرف سرمایہ کاری کے لیے خریدے گئے۔
ان پر نہ گھر بنتا ہے...
نہ کوئی رہتا ہے...
نہ وہ مارکیٹ میں واپس آتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل ضرورت رکھنے والا خریدار قیمتوں کی وجہ سے مارکیٹ سے باہر ہو جاتا ہے۔
شہروں کا پھیلاؤ، لیکن منصوبہ بندی کے بغیر
پاکستان کے بڑے شہر مسلسل پھیل رہے ہیں۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد اور پشاور ہر سال مزید وسیع ہوتے جا رہے ہیں۔
لیکن انفراسٹرکچر اسی رفتار سے ترقی نہیں کر پا رہا۔
اس کے نتیجے میں:
ٹریفک میں اضافہ
لمبا روزانہ سفر
پانی اور سیوریج کے مسائل
بجلی اور گیس پر دباؤ
زرعی زمین کا مسلسل خاتمہ
یہ تمام مسائل براہِ راست رئیل اسٹیٹ کی قدر اور شہری زندگی کے معیار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس اب بھی انتہائی محدود ہے
ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تر لوگ گھر مکمل رقم ادا کر کے نہیں خریدتے۔
وہ 20 سے 30 سال کے مارگیج یا ہاؤسنگ لون استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہاؤسنگ فنانس نجی شعبے کے قرضوں کا صرف ایک بہت چھوٹا حصہ ہے، جس کی وجہ سے متوسط طبقے کے لیے گھر خریدنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
نتیجہ؟
اکثر لوگ برسوں تک کرائے پر رہتے ہیں یا پھر پلاٹ خرید کر تعمیر کئی سال تک مؤخر کر دیتے ہیں۔
غیر شفاف مارکیٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے
پاکستان میں کسی ایک علاقے میں ایک ہی پلاٹ کی مختلف قیمتیں سننے کو ملتی ہیں۔
وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں:
معلومات کا فقدان
غیر مصدقہ لسٹنگز
مختلف ڈیلرز کی مختلف قیمتیں
مارکیٹ ڈیٹا کا عوامی طور پر دستیاب نہ ہونا
جب خریدار کے پاس درست معلومات نہ ہوں تو فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
شفافیت کی کمی نہ صرف سرمایہ کار بلکہ عام خریدار کو بھی متاثر کرتی ہے۔
زرعی زمین سے ہاؤسنگ سوسائٹی تک
گزشتہ چند برسوں میں شہروں کے گرد موجود زرعی زمین تیزی سے رہائشی منصوبوں میں تبدیل ہوئی ہے۔
اگرچہ شہری ترقی ضروری ہے، لیکن غیر منصوبہ بند توسیع مستقبل میں خوراک، ماحول اور ٹرانسپورٹ جیسے مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
صرف مزید سوسائٹیاں بنانا حل نہیں
اگر پاکستان کو اپنی ہاؤسنگ بحران پر قابو پانا ہے تو توجہ صرف نئی سوسائٹیاں بنانے پر نہیں ہونی چاہیے۔